جگت بازی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بذلہ سنجی، لطفیہ گوئی، ضلع بازی۔ "فیصلہ ہے کہ لکھنؤ کی زبان آورد کے بغیر نہیں بولی جاتی، قافیہ پیمائی اور جگت بازی اس کی جان ہے۔"      ( ١٩١١ء، محاکمۂ مرکز اردو، ١٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'جگت' کے ساتھ فارسی مصدر 'باختن' سے مشتق صیغۂ امر 'باز' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'جگت باز' بنا اور پھر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے مرکب 'جگت بازی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٧ء میں "سخندان فارس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بذلہ سنجی، لطفیہ گوئی، ضلع بازی۔ "فیصلہ ہے کہ لکھنؤ کی زبان آورد کے بغیر نہیں بولی جاتی، قافیہ پیمائی اور جگت بازی اس کی جان ہے۔"      ( ١٩١١ء، محاکمۂ مرکز اردو، ١٣ )

جنس: مؤنث